پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بچپن علی علیہ السلام کی زبانی
حضرت علی علیہ السلام شام کے ایک یہودی سے بحث و گفتگو کر رہے تھے اس کے درمیان پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس طرح توصیف فرمایا :
و محمد صلی اللہ علیہ وآلہ اولیٰ الحکم و الفھم صبیاً بین عبدۃ الاوثان و حزب الشیطان فلم یرغب لھم فی صنم قط و لم ینشط لاعیادھم ولم یر منہ کذب قط و کان امیناً صدوقاً حلیماً ۔ ۔ ۔ وکان یبکی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حتیٰ تبتل مصلاہ خشیۃ من اللہ عز و جل من غیر جرم (الاحتجاج طبرسی ،ج/۱،ص/۳۳۱)
آنحضرت کو بچپن ہی میں علم و حکمت سے نوازا گیا ۔ پیغمبر اکرم (ص) جبکہ بت پرستوں کے درمیان زندگی گزار رہے تھے اور حزب شیطان کے درمیان تربیت پا رہے تھے لیکن آپ ہرگز بتوں کی طرف مائل نہ ہوئے اور نہ ہی ان کی خوشیوں میں کبھی خوشی کا اظہار فرمایا ، کبھی آپ سے جھوٹ نہ سنا گیا وہ ہمیشہ امانت دار ،صادق اور بردبار تھے ۔ پھر فرماتے ہیں کہ : جب آپ مصلای عبادت پر جاتے تو خوف خدا سے اس قدر گریہ فرماتے کہ مصلا تر ہو جاتا تھا ۔
مولائے کائنات کے بیان کے مطابق پیغمبر اکرم (ص) بچپن ہی سے عقیدہ توحید ،یکتا پرستی ،امانت داری اور صداقت کے پابند تھے یہاں تک کہ پوری زندگی میں آپ کی زبان مبارک سے ایک جھوٹ بھی نہیں سنا گیا نہ ہی کوئی ناروا بات آپ کی زبان پر جاری نہ ہوئی ۔
مولائے کائنات (ع) کا یہ مباحثہ پیغمبر اکرم (ص) کی سیرت کو سمجھنے کے لئے بہت ہی موثر ہے چونکہ عام لوگوں کی سیرت جوانی میں ظہور پذیر ہوتی ہے لیکن آنحضرت کی یہ سیرت دیگر افراد سے جدا ہے چونکہ اس کا رابطہ عالم غیب سے ہے اور اسے عالم ملکوت کی تائید حاصل ہے اسی لئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ سیرت سب سے زیادہ مطمئن ، سب سے زیادہ حسین اور سب سے زیادہ آبرومند سیرت ہے ۔
اقتباس : کتاب "سیری گذرا در سیرہ رسول اللہ ،تالیف آیۃ اللہ کریمی جھرمی