عزاداری کے احکام
سوال ۱۔ کالا لباس پہننا مکروہ ہے کیا یہ کراہت غم حسین علیہ السلام میں پہنے جانے والے لباس کو بھی شامل ہے ؟
جواب : امام حسین علیہ السلام کے غم میں سیاہ لباس پہننا مکروہ نہیں بلکہ مطلوب ہے ۔
سوال ۲۔ عزائے امام حسین علیہ السلام میں سیاہ لباس پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
جواب : امام حسین علیہ السلام کی عزا میں سیاہ لباس پہننا مطلوب ہے لہذا نماز میں کراہت کا جبران ہو جاتا ہے انشاء اللہ ۔۔۔
عزاداری کی کیفیت
سوال ۳۔ امام حسین علیہ السلام کے غم میں گریبان چاک کرنا اور سر و سینہ پیٹنا کیسا ہے ؟
جواب : امام حسین علیہ السلام کے غم میں گریبان چاک کرنے اور سر و سینہ پیٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۴۔ دائرہ بنا کر گھومنا اور جھک کر ماتم کرنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب : کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ خیال رہے کہ اس سے عزاداری کا وقار پامال نہ ہونے پائے ۔
سوال ۵۔ قمیض اتار کر برہنہ حالت میں ماتم کرنا کیسا ہے ؟
جواب : اگر نا محرم کی نگاہ نہ پڑتی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۶۔ سینہ زنی ،زنجیر زنی یا سر و صورت کو اس طرح پیٹنا کہ بدن کو ضرر پہنچے جیسے چہرہ زخمی ہو جائے یا خونی ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب : اگر ضرر معمولی ہو تو کوئی ٓحرج نہیں ہے ۔
سوال ۷۔ ایسے مقامات پر عزاداری کرنے کا کیا حکم ہے جہاں کے رہنے والے دینی شعائر کے پابند نہ ہوں بلکہ نوحہ و ماتم کو عجیب غریب کام سمجھتے ہوں یا اس کا مذاق اڑاتے ہوں جس سے عزاداری کی توہین ہو ۔
جواب : اس طرح کے مقامات پر مجلسیں برپا کرنا چاہئے اور نوحہ و ماتم کرنا چاہئے ان مجلسوں میں بزرگ علماء کو بلا کر مجلسیں پڑھوائیں جو سامعین کے لئے حقیقی اسلام بیان کریں ، اس طرح سے میں نہیں سمجھتا کہ کوئی عزاداری کا مذاق اڑائےگا البتہ دین اسلام کی تبلیغ میں چند نادان لوگوں کے تمسخر اور مذاق اڑانے کی پرواہ بھی نہیں کرنی چاہئے ۔
عزاداری کا طریقہ
سوال ۸۔ عاشور کے دن علم کو گھمانا ، موم بتی جلانا ، یا شبیہ تابوت بنانا کیسا ہے ؟
جواب : کوئی حرج نہیں ہے
سوال ۹۔ علم اٹھانا کیسا ہے ؟
جواب : حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی عزاداری میں علم اٹھانا شعائر دینی کے احترام میں شامل ہے لہذا اگر علم پر جاندار چیزوں کی تصویر نہ بنی ہو تو کوئی حرج نہیں بلکہ مطلوب ہے ۔
سوال ۱۰ ۔ شام غریباں میں شمعیں جلانا کیسا ہے ؟ کیا یہ بدعت نہیں ہے ؟
جواب : کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۱۱۔ بعض جگہوں پر عزاداری میں شبیہ بناتے ہیں جیسے قبر حضرت زہرا (س) کی شبیہ یا جناب سکینہ کا تابوت ، اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب : کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۱۲۔ ائمہ معصومین علیہ السلام کی تصویریں بنانا ، نشر کرنا اور بیچنا ،خریدنا کیسا ہے ؟
جواب : ان تصاویر کے صحیح ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے لہذا بہتر ہے ان سے پرہیز کیا جائے ۔
عزاداری کے آداب و اخلاق
سوال ۱۳۔ اگر کوئی شخص مجلس عزا میں دکھانے کے لئے زور زور سے روئے یا تیز تیز سینہ زنی یا زنجیر زنی کرے تو کیا یہ ریا ہے اور اس کی عزاداری باطل ہے ؟ اور اگر وہ دوسروں کو رلانے کے لئے ایسا کرے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب : ریا کاری کسی صورت جائز نہیں ہے لیکن عزاداری مین تباکی (رونے والوں جیسی صورت بنانا ) شعائر دینی کی تعظیم ہے ریا نہیں ہے ۔
سوال ۱۴۔ جن مجالس میں بہت زیادہ ازدحام ہوتا ہے کبھی کبھی خادمین حضرت امام حسین (ع) عزاداروں کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں (یعنی ان کو ڈانٹتے ہیں یا انھیں دھکیل دیتے ہیں) شریعت کی رو سے ان کی بدسلوکی کا کیا حکم ہے ؟
جواب : عزاداروں اور مجلس میں شرکت کرنے والوں کے ساتھ ادب و احترام سے پیش آنا چاہئے ۔
سوال ۱۵۔ کیا مجالس میں شرکت کرنے کے لئے ماں باپ کی رضایت شرط ہے ؟ یا بغیر ان کی مرضی کے مجلس میں شرکت کی جا سکتی ہے ؟
جواب : اس کے موارد مختلف ہیں ( کہیں پر شرط ہے اور کہیں پر شرط نہیں ہے )
سوال ۱۶۔ ماہ محرم خاص طور پر عاشور کے دن ہنسی مذاق کرنا کیسا ہے ؟
جواب : صحیح نہیں ہے ۔
سوال ۱۷۔ ایسے راستوں پر مجلس و ماتم برپا کرنا کیسا ہے جہاں رفت و آمد میں مشکل ایجاد ہوتی ہو ؟
جواب : معمول کی حد تک جائز ہے ۔
سوال ۱۸۔ بعض انجمنیں گلی اور سڑکوں پر شامیانہ لگا کر مجلسیں برپا کرتی ہیں جس سے بعض پاس پڑوس والے راضی نہیں ہیں ، ان مجالس اور ان میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب : مجالس کو اس طرح برپا کیا جائے کہ راستہ چلنے والوں اور پاس پڑوس والوں کو اذیت نہ ہو ۔
سوال ۱۹۔ آدھی رات کو مجلس و ماتم کرنا جس سے دیگر لوگوں کے آرام میں خلل پڑتا ہو ، اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب : کلی طور پر لوگوں کو اذیت کرنا جائز نہیں ہے چاہے جاگ رہے ہوں یا سو رہے ہوں ، لہذا مجلسوں کو معمول اور عرف کے مطابق منعقد کرنا چاہئے ۔ البتہ بعض موارد میں جیسے شب عاشور کو مجلسیں برپا کرنا اذیت نہیں ہے ۔
سوال ۲۰۔ اگر کوئی مجلس بپا کرنے والا یہ چاہے کہ اس کی مجلس میں بہت سے لوگ شرکت کریں تو یہ صحیح ہے ؟
جواب: مجالس میں جتنا بھی ازدحام ہو اور جتنی بھی شان و شوکت سے مجلسیں بپا کی جائیں اس کا اثر بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا اور اگر اس کی طرف اتنی توجہ نہ دی جاتی تو دین و اسلام کے دشمن خاص طور مغرب زدہ لوگ اس واقعے کا انکار کر دیتے ۔
لیکن سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ مجالس عزا میں جو عظیم اجر و ثواب رکھا گیا ہے اسے حرام کاموں کے ذریعہ ختم نہ کریں لہذا جو چیزیں بھی مذہب یا عزاداری کی توہین کا سبب بنیں ان سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔
نماز اور عزاداری
سوال ۲۱۔ اگر کوئی شخص یہ احتمال دے کہ اگر وہ دیر تک عزاداری میں مشغول رہے گا تو اس کی نماز صبح قضا ہو جائے گی تو اس کا وظیفہ کیا ہے ؟
جواب : نماز کے قضا نہ ہونے کا خیال رکھنا واجب ہے ۔
سوال ۲۲۔ اگر کوئی انسان نماز نہ پڑھتا ہو ، روزہ نہ رکھتا ہو اور امام حسین علیہ السلام کا ماتم کرے اسی طرح وہ شخص جو خمس و زکات ادا نہیں کرتا کیا وہ امام حسین علیہ السلام کی مجلسوں میں اپنا مال خرچ کر سکتا ہے ؟ کیا اس کو مال خرچ کرنے پر ثواب بھی ملے گا ؟
جواب : نماز اور روزہ واجب ہے لیکن امام حسین علیہ السلام کی عزاداری اور ان پر گریہ کرنا مستحب ہے ، انسان کو نماز و روزہ کا خیال رکھنا چاہئے اور جس مال میں خمس واجب ہو پہلے اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے پھر اسے امام حسین علیہ السلام کی عزاداری یا دیگر کار خیر پر خرچ کرنا چاہئے ۔ جس مال پر خمس واجب ہو بغیر خمس ادا کئے ہوئے اس مال کا کسی مد میں خرچ کرنا چاہے کسی کار خیر کے لئے ہو حرام ہے۔
سوال ۲۳۔ روز عاشور ظہر کے وقت مومنین گریہ و زاری میں مشغول رہتے ہیں اور نماز ظہر کا وقت آجاتا ہے تو ایسی صورت میں مومنین کا وظیفہ کیا ہے ؟
جواب : ایسی صورت میں دونوں فرائض کو ایک ساتھ انجام دینا چاہئے یعنی امام حسین علیہ السلام کے لئے عزاداری بھی کی جائے اور نماز کو بھی اول وقت ادا کیا جائے ۔
عورتوں کی عزاداری
سوال ۲۴۔ ائمہ اطہار علیہم السلام کے لئے منعقد ہونے والی مجالس میں اگر نا محرم بھی موجود ہوں تو عورتوں کا بلند آواز سے گریہ و نوحہ کرنا کیسا ہے ؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۲۵۔ جس وقت مرد حضرات نوحہ و ماتم میں مشغول ہوتے ہیں تو عورتوں کا کھڑے ہو کر انھیں دیکھنا کیسا ہے اور ایسی صورت میں خود عزاداروں کا کیا وظیفہ ہے ؟
جواب : عورتوں کے لئے نا محرم کے بدن کو عریاں دیکھنا جائز نہیں ہے ۔
سوال ۲۶۔ عورتوں کا ماتمی انجمنوں کے پیچھے چلنا کیسا ہے ؟
جواب : اگر گناہ اور معصیت کا باعث نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
مجلس عزا میں خطباء اور نوحہ خوانوں کا وظیفہ
سوال ۲۷۔ حضرت عالی کی نظر میں نوحہ خوانی کا کیا حکم ہے اور ایک نوحہ خوان کو کن صفات کا حامل ہونا چاہئے ؟
جواب : اگر اہلبیت(ع) پر نوحہ خوانی خدا کے لئے ہو تو عبادت ہے اور اس کا بہت اجر و ثواب ہے اس لئے ایک نوحہ خوان کو اہل تقویٰ ہونا چاہئے اور ایسے اشعار پڑھنا چاہئے جو جھوٹ اور ناحق نہ ہو اور نوحہ خوانی کو قصد قربت کے ساتھ انجام دینا چاہئے تاکہ اس کا ثواب بھی ملے اگر چہ اس کی اجرت لینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۲۸۔ بعض نوحہ خوان اس طرح حسین حسین کہتے ہیں جس سے مجمع میں شور و ہیجان ایجاد ہوتا ہے اور لوگ اٹھنے بیٹھنے لگتے ہیں ؟ ایسا کرنا صحیح ہے ؟
جواب : اگر نوحہ خوانی غنا (گانے ) کی طرح ہو تو حرام ہے ۔
سوال ۲۹ ۔ میوزیک کے ساتھ نوحہ پڑھنا کیسا ہے ؟
جواب : حرام ہے ۔
سوال ۳۰ ۔ مجالس سید الشہداء علیہ السلام میں خطابت اور نوحہ خوانی کے لئے اجرت لینے کا کیا حکم ہے ؟
جواب : جائز ہے ۔
سوال ۳۱۔ بعض دعا پڑھنے والے دعائے کمیل ، دعائے ندبہ یا زیارت عاشورا کے درمیان مصائب پڑھتے ہیں اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب : بہتر ہے کہ دعا کے درمیان شعر ومصائب نہ پڑھا جائے لیکن دعاؤں کے درمیان مصائب پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ البتہ اگر اتنا زیادہ مصائب و شعر پڑھا جائے کہ عرفاً حالت دعا سے خارج ہو تو نہیں معلوم اس کو دعا کا ثواب ملے گا یا نہیں ۔
عزاداری کے لئے مستند کتابیں
سوال ۳۲۔ کیا مرحوم ملا حسین کاشفی کی کتاب روضۃ الشہداء اور ملا دربندی کی کتاب اسرار الشہادۃ میں واقعہ عاشورا کو تحریف کر کے پیش کیا گیا ہے ؟
جواب : ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ ان کتابوں کے مولفین کی طرف تحریف کی نسبت دیں ۔البتہ جو واقعات ان کتابوں میں لکھے گئے ہیں اور ان کے واقع ہونے کا احتمال ہو اور ان کے انکار پر کوئی دلیل نہ ہو تو ہم ان کا انکار نہیں کر سکتے ہیں لیکن جن مطالب کے واقع نہ ہونے پر دلیل پائی جاتی ہے ان کو نقل نہیں کرنا چاہئے ۔
سوال ۳۳۔ فارسی اور عربی کی معتبر کتابیں کون سی ہیں ؟
جواب : جن کتابوں سے محدث حاج شیخ عباس قمی نے مطالب نقل کئے ہیں ان سے مطالب نقل کئے جا سکتے ہیں ۔
سوال ۳۴۔ بے بنیاد مصائب یا جن کے وقوع کے بارے میں شک ہو ان کا پڑھنا کیسا ہے ؟
جواب : بے بنیاد مصائب پڑھنا جائز نہیں ہے لیکن جن کے واقع ہونے کا احتمال پایا جاتا ہو ان کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۳۵۔ اگر کوئی بے بنیاد اور غیر مستند مصائب پڑھے تو سننے والے کا کیا فرض ہے ؟
جواب : اگر ذاکرین کرام سے کوئی جھوٹی بات سنیں تو ان کا شرعی وظیفہ ہے کہ اسے بتائیں اور تمام سامعین کا یہی فرض ہے ۔
عزاداری سے متعلق اموال
سوال ۳۶۔ اگر مجلس عزا میں ایسے اموال سے استفادہ کیا جائے جس کا مالک راضی نہ ہو تو ایسی مجالس میں شرکت کرنا کیسا ہے اور اگر پہلے سے نہ معلوم ہو کہ مالک راضی نہیں ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب : اگر جس مال میں تصرف کیا ہے وہی مال حرام ہو تو اس میں تصرف کرنا جائز نہیں ہے اور تصرف کرنے والا ضامن ہے ۔
سوال ۳۷۔ جو رقم عزاداری میں کسی خاص کام کے لئے ہدیہ کی گئی ہو اس کا دیگر امور میں خرچ کرنا کیا ہے (مثال کے طور پر جو رقم کھانا کھلانے کے لئے دی گئی ہو اس سے سامان وغیرہ خریدا جائے )
جواب : جس رقم کا مد معین ہو اس کو دوسرے مد میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے بلکہ خرچ کرنے والا اس کا ضامن ہے ۔
سوال ۳۸۔ جو اموال شرعاً عزاداری کے لئے وقف نہ کئے گئے ہوں لیکن انھیں عزاداری میں استفادہ کرنے کے لئے رکھا گیا ہو ان کا ذاتی کاموں میں استفادہ کرنا کیسا ہے اور اگر کوئی نادانی میں استفادہ کر لے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب : ان وسائل کا ذاتی طور پر استعمال کرنا جائز نہیں ہے ۔ جس نے نادانی میں استفادہ کیا ہو وہ توبہ کرے بلکہ بعض موارد میں استفادہ کرنے والا ضامن ہے ۔
سوال ۳۹۔ اگر کوئی رقم عاشور کے دن کھانا کھلانے کے لئے دی جائے تو دیگر ایام میں کھانے پر خرچ کی جا سکتی ہے ؟
جواب : اس مورد میں روز عاشور کے علاوہ یہ رقم نہیں خرچ کی جا سکتی ہے ۔
عزاداری میں آلات موسیقی سے استفادہ کرنا
سوال ۴۰ ۔ ڈھول ، تاشہ ، بانسری وغیرہ کا عزاداری اور نوحہ خوانی میں استعمال کرنا کیسا ہے ؟
جواب : جائز نہیں ہے ۔
اقتباس : گفتمان عاشورائی ۔ تالیف آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ لطف اللہ صافی گلپائگانی