آج کا دن دنیا کے تمام مسلمانوں کے لئے عید کا دن ہے جس دن معنویت کو مادیت پر فتح حاصل ہوئی

حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی نے کہنوج کے طلاب کی عمامہ گزاری کے موقع پر فرمایا : آج کا دن دنیا کے تمام مسلمانوں کے لئے عید کا دن ہے جس دن معنویت کو مادیت پر فتح حاصل ہوئی ۔
عید قربان کے مبارک و مسعود موقع پر شہر کہنوج کے ۲۴ طلاب علوم دین آیۃ اللہ العظمیٰ صافی کے دست مبارک سے معمم ہوئے ۔
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی نے دور حاضر میں طلاب اور علماء کے اہم وظائف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : علماء کو ہمیشہ اسلام و مسلمین کی خدمت کے لئے خود کو آمادہ رکھنا چاہئےاور خود کو امام زمانہ(عج) کا سپاہی سمجھتے ہوئے ہر قدم آنحضرت کے مرضی کے مطابق اٹھانا چاہئے ۔ ۔۔۔ آگے
رسم عمامہ گزاری کی تصاویر
 

حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی نے شہر کہنوج کے اس مدرسے میں جہاں تین محروم صوبوں(کرمان ،سیستان و بلوچستان اور ہرمزگان) کے طلاب علم دین حاصل کر رہے ہیں اور اس علاقہ میں دشمن کی سرگرمیاں بام عروج پر ہیں، کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : طلاب کو دنیا کے جدید وسائل سے لیس ہونا چاہئے اور دشمن کی ثقافتی یلغار جس نے تمام الٰہی ادیان بالخصوص تشیع کو نشانہ بنایا ہے ، ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے ۔
معظم لہ نے محروم علاقوں میں باطل فرقوں کی تبلیغات کے مقابلے میں علماء کو بیدار اور ہوشیار رہنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا : ہدایت، ارشاد اور معاشرے کی کمزوریوں کو دور کرنا علماء کا اصلی وظیفہ ہے ۔
آپ نے علماء کو معاشرے میں اتحاد اور ہمدلی کا مظہر قرار دیتے ہوئے فرمایا : علماء کو پارٹی بازی سے دور رہ کر لوگوں کو اتحاد اور ہمدلی کی دعوت دیں ۔ آپ نے فرمایا : علماء کو ایسا ہونا چاہئے کہ ہر پارٹی اور ہر گروہ کا انسان ان سے اپنی مشکلات بیان کر سکے ۔
مرجع تقلید عالم تشیع نے علماء کو ہر زمانہ میں بے پناہ لوگوں کی پناہ گاہ قرار دیتے ہوئے فرمایا : علماء اور روحانیت کو ہر علاقہ میں سرگرم عمل رہنا چاہئے ،دشمنوں کے شبہات اور تفرقہ اندازی کا جواب دینا چاہئے اور لوگوں کے درمیان رہنا چاہئے تاکہ لوگوں کا درد نزدیک سے درک کر سکیں اور ان کے ساتھ ہمدردی کر سکیں ۔
آیۃ اللہ العظمیٰ صافی نے محروم علاقوں کے لوگوں کی معیشتی اور معاشرتی مشکلات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : آپ لوگ جو خود اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور ان کے درد کو سمجھتے ہیں،آپ کا لوگوں کے درمیان رہنا ان کے لئے دلگرمی کا سبب بنتا ہے اور امام زمانہ (عج) کے سپاہیوں کے ساتھ انس و الفت میں اضافے کا باعث ہوتا ہے ۔
آپ نے طلاب اور علماء کو علوم آل محمد کی تحصیل میں جدیت کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا : ایک عالم کی ترقی کا سب سے اہم سبب خالص نیت اور بغیر منت کی خدمت قرار دیا ۔
معظم لہ نے آخر سخن میں طلاب کے لئے ضروری اخلاقی مسائل بیان فرمایا ۔