شب قدر میں پرودگار کی رحمت کے امیدوار بندہ کو چاہئے کہ وہ خود کو آب غسل سے معطر کرے اور بہتر یہ ہے کہ یہ غسل غروب آفتاب کے نزدیک ہو تاکہ نماز مغرب اسی غسل سے ادا کی جائے ۔
جانماز پر کھڑا ہوکر نماز شب قدر کی نیت کرے اور دو رکعت نماز اس طرح بجا لائے کہ ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد سات مرتبہ سورۂ توحید (قل ھواللہ) پڑھے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ستر مرتبہ " استغفر الله و اتوب اليه " پڑھے ۔
۔ قرآن اپنے سامنے کھول کر رکھے اور اس دعا کو پڑھے : اللهم اني اسئلک بکتابک المنزل و ما فيه و فيه اسمک الاکبر و اسمائک الحسني و ما يخاف و يرجي ان تجعلني من عتقائک من النار ، اور پھر قرآن کو واسطہ قرار دے کر اپنی حاجت طلب کرے۔
۔ جب بندہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے تو وہ امید اور خوف کے درمیان ہوتا ہے ۔ ایک طرف اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ خداوند صالح بندوں کی امیدوں کا مرکز اور آرزؤوں کا مقصد ہے اور اس سے امید رکھنا عالم وجود کی سب سے قوی امید ہے اور دوسری طرف بندہ اپنے اعمال کی سستی سے خائف ہوتا ہے کہ کہیں ہمارے یہ ناقص اعمال حجاب اور مانع نہ بن جائیں ، اس بات کا ڈر بھی رہتا ہے کہ کہیں یہ گریہ و زاری گناہوں کے سیاہ پردے میں گم ہو کر نہ رہ جائے لیکن یہ گناہگار بندہ اسی خوف و امید کے درمیان اپنے پروردگار سے لو لگاتا ہے اور اس سے اپنا درد دل بیان کرتا ہے ۔
خدا کے اس مہمان کی سب سے پہلی خواہش گناہوں کی سیاہی سے پاکیزگی ہے ، پھر اپنی روح کو آب توبہ سے پاک کرتا ہے اور اپنے پرودگار سے بخشش طلب کرتا ہے ۔ مذکورہ دعا کو پڑھنے کے بعد توبہ کرنے والا بندہ کچھ دیر ٹھہر کر اپنی دنیاوی اور اخروی حاجتوں کو اپنے دل میں تصور کرتا ہے ۔
۔ قرآن شریف اٹھا کر سر پر رکھتا ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اپنی جان کو قرآن پر قربان کر دے ، اس کا احساس ، فکر و ذکر اور پوری زندگی قرآن کے سایہ میں گزرے اس لئے پھر اپنے محبوب کے سامنے اپنے دل کے عقدے کھول کے آواز دیتا ہے ۔
اللهم بحق هذا القرآن و بحق من ارسلته به و بحق کل مؤمن مدحته فيه و بحقک عليهم فلا احد اعرف بحقک منک
خدا کو ثقلین(قرآن و عترت) کی قسم دیتا ہے ۔
متقی ، پرہیزگار اور خدا کے محمود بندوں کو واسطہ قرار دیتا ہے ۔
وہ خداوند عالم سے لو لگانا چاہتا ہے جبکہ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ خدا کے علاوہ کوئی اس کی حقیقت کو نہیں جانتا ، کوئی دوسرا خدا کی توصیف بھی نہیں کر سکتا ہے ۔
پھر وہ خداوند عالم کے سامنے ان مبارک ناموں کو اپنی زبان پر جاری کرتا ہے بلکہ اس کے وجود کا ہر ذرہ ان ناموں کو دہراتا ہے اور ہر نام کو دس مرتبہ تکرار کرتا ہے ۔
بک يا الله... بمحمد... بعلي... بفاطمه... بالحسن... بالحسين... بعلي بن الحسين... بمحمد بن علي... بجعفر بن محمد... بموسي بن جعفر... بعلي بن موسي... بمحمد بن علي... بعلي بن محمد... بالحسن بن علي... بالحجة
اس مرحلہ سے گزرنے کے بعد وہ خداوند عالم کا دوست بن جاتا ہے دل سے ہر کدورت پاک ہو جاتی ہے اور دل میں کوئی کدورت ہے نہ کوئی رنجش ۔
یہاں سے ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے ، ایک اچھی زندگی کی امید ، عمیق فکر کی آرزو اور ایک پاکیزہ احساس کی تمنا لے کر ، اس امید کے ساتھ کہ پھر خدا کی بارگاہ میں شرمندہ نہ ہونا پڑے ۔